ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / تین طلاق پرمودی حکومت کا جواب داخل،پرسنل لاء کی بنیادپرخواتین کوآئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا:مرکز

تین طلاق پرمودی حکومت کا جواب داخل،پرسنل لاء کی بنیادپرخواتین کوآئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا:مرکز

Sat, 08 Oct 2016 11:31:32    S.O. News Service

نئی دہلی۔7اکتوبر(ایجنسی)تین طلاق کے معاملہ پر مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنا حلف نامہ داخل کردیا ہے۔ مودی حکومت نے اپنے حلف نامے میں 3 طلاق کو خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز پر مبنی قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ مسلم پرسنل لا بورڈ اس سلسلہ میں پہلے ہی اپنا حلف نامہ داخل کرچکا ہے اور صاف طور پر کہہ چکاہے کہ سماج میں اصلاح کے نام پر پرسنل لاء کو دوبارہ تحریر نہیں کیاجاسکتا ہے۔حلف نامے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ پرسنل لاء کی بنیاد پر کسی کو آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ تین طلاق خواتین کے ساتھ جنسی امتیاز ہے۔ خواتین کے وقار کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کی مخالفت میں چند مسلم عورتوں کی جانب سے عرضی داخل کی گئی تھی ، جس پر سپریم کورٹ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب دینے کو کہا تھا۔جس پر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے حلف نامہ دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلم پرسنل لاء قرآن و احادیث سے مستنبط قوانین کا نام ہے، اس لئے اس میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں۔ہندوستانی دستور کے مطابق ہرہندوستانی کو اپنے مذہب کے احکام کے مطابق زندگی گزارنے کا حق ہے ،اس لئے سپریم کورٹ کو مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی قطعی ضرورت نہیں ہے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کوئی دستوری ادارہ نہیں جسے نوٹس جاری کیاجائے ۔اس لئے یہ عرضی مسترد کی جانی چاہئے۔ طلاق ثلاثہ معاملہ پرگزشتہ دنوں مرکز نے جواب داخل کرنے کے لئے عدالت سے 4 ہفتوں کا وقت مانگاتھا، جسے کورٹ نے مان لیا تھا۔مرکزی حکومت کی جانب سے حلف نامہ منسٹری آف لاء اینڈ جسٹس کی ایڈیشنل سکریٹری مکلتا وجے ورگ نے داخل کیا ہے،جس میں 3 طلاق، نکاح حلالہ اور کثرت ازدواج کی قانونی حیثیت کا مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔۔ حلف نامہ میں کہا گیا ہے کہ جنسی امتیاز ختم کرنے، وقار اور مساوات کے اصول کی بنیاد پر ان پر غور کیا جانا چاہئے۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن سے سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔۔ حکومت کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں خواتین کو ان کے قانونی حقوق دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حلف نامہ میں مرکزی حکومت نے چند مسلم ممالک کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں پہلے ہی طلاق ثلاثہ کو ختم کیا جا چکا ہے۔ مرکز نے ایران، مصر، انڈونیشیا، ترکی، تیونس، مراقش، افغانستان، بنگلہ دیش اور پاکستان میں نکاح قانون میں تبدیلیاں کی جاچکی ہیں ۔مرکز نے حلف نامہ میں کہا کہ3طلاق کے مطابق،شوہر اپنی بیوی کو تین بار طلاق بول کر ہی طلاق دے دیتا ہے۔ نکاح حلال کے مطابق، طلاق شدہ جوڑا اس وقت تک شادی نہیں کر سکتا، جب تک کہ عورت دوبارہ شادی کرنے کے بعد طلاق لے کر یا پھردوسرے شوہر کی موت کے بعداکیلی نہیں ہوجاتی ۔


Share: